تحریر: مولانا سید نجیب الحسن زیدی
حوزہ نیوز ایجنسی| کی رپورٹ کے مطابق، کفن میں لپٹا ہوا ایک تھکا ماندہ لہو لہان ذکرِ پروردگار میں مشغول زخمی جسم، جو برسوں کی جدوجہد، ذمہ داریوں اور قربانیوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھا، تابوت سے نکالا گیا اور کروڑوں لوگوں کی ہچکیوں اور سسکیوں کے ہمراہ آہستہ سے حرم امام رئووف کے پاکیزہ ٹکڑے دار الذکر میں کے سپرد خاک کر دیا گیا۔
اور ذکر الہی میں ہمہ جہت مشغول ذات دار الذکر کا ناقابل فراموش حصہ بن گئی۔فَاذۡكُرُوۡنِىۡٓ اَذۡكُرۡكُمۡ رب اپنے مخلص بندوں سے ایسے بھی وعدہ نبھاتا ہے کبھی سوچا نہ تھا بالکل منفرد بے مثال لافانی۔۔۔
دار الذکر یوں کسی کی میت کے لئے گہوارہ بنے گا شاید تاریخ ذکر و فکر میں کسی نے نہ سوچا ہو ۔
دارالذکر میں آج فقیہ مجاہد کو نہیں ایک پہاڑ کو دفن کیا گیا…
ایسا پہاڑ جو تدبر، روشن خیالی ، شجاعت و صبر و ہمت کا پہاڑ تھا گھورے کے ڈھیر کیا جانے پہاڑ کی طاقت کیا ہوتی ہے اسکی رفعت تک پست فطرت کہاں پہنچ سکتے ہیں
ایک ایسی شخصیت کو آج سپرد لحد کیا گیا جس کا قد اپنے دور کے ہر ایک حکمراں سے بلند تھا اس لئے کہ خادمِ در اہلیت علیھم السلام تھا ایسا خادم جسکی حکمرانی اپنے جد کی طرح عدیم المثال تھی جو ایک قوم کا رہبر وقائد تھا لیکن اس نے اپنی پوری زندگی سادگی، اخلاص کے ساتھ عزم پیہم اور خدمت خلق میں گزار دی۔
اور جاتے جاتےاپنی میراث میں جدو جہد، لگن ہمت حوصلہ اور شوق شہادت سے سرشار ایک مجاہد قوم چھوڑ گیا جو کسی بھی زمانے کےفرعون کے مقابلہ کا ہنر جانتی ہے۔ ضرور مٹی بھی اس کوہ وقار کو اپنی آغوش میں لیکر حیران ہوگی بوترابی ایسے بھی ہوتے ہیں ۔
شاید اسکو سپرد لحد کرتے وقت فرشتوں نے آواز دی ہو ۔
اے اہلِ خاک! اسے آہستگی سے اپنی آغوش میں لینا، یہ کوئی معمولی مسافر نہیں؛ یہ وہ تھکا ہوا قافلہ سالار ہے جس کے جسم پر وقت کے زخم ہیں، عصری جراحتوں کے پھول اسکے جسم نازنیں پر سجے بتا رہے ہیں انبیاء الہی کیوں اذیتوں میں مبتلا ہوئے یہ وہ مرد آہن ہے جس کی روح عشقِ کربلا کی راہوں سے گزری ہے اور جو کربلا سے عشق کرے پھر اسے زخموں کی قبا اوڑھنا پڑتی ہے سو اسے اس طرح نرمی سے دفن کرنا کہ اسکے زخموں پر نمک پاشی نہ ہو اسکی شخصیت بہت دل آویز و غیروں کو بھی اپنے سے نزدیک کرنے والی تھی یہ کہا کرتا تھا سبکو ساتھ لیکر چلو آپسی اختلافات کی دیواروں کو گراو خود سے مت الجھو تمہیں بڑے دشمن کا سامنا ہے کہیں ایسا سو اس سے عقیدت ہے تو ایسے نعرے نہ لگاؤ جس سے اسکی پاکیزہ فکر پر داغ آئے ایسا نہ ہو کہ تم خود کو اتنا سکوڑ لوکہ بعض اختلاف نظر رکھنے والوں سے اسکے جنازے میں شرکت کے ساتھ ندامت و توبہ کی گنجائش چھین لو اور وہ اس تاریخی تدفین کا حصہ بننے سے محض اس لئیے رہ جائیں کہ تم انہیں پسند نہیں کرتے
تمہارا اور انکا ذاتی معاملہ ہے لیکن دین ذاتیات سے ماواء ہے اور تم ایک دینی فریضہ پر عمل کر رہے ہو کوئی ذاتی پروگرام نہیں اسے دفناو تو دھیان رہے تم سب مٹی کے ہو مٹی کو کیمیا ولایت بناتی ہے سو حر بننے کےدروازوں کو بند کروگے تو اسکے زخم ہرے ہو جائیں گے کیونکہ یہ جسم صرف مٹی سے گندھا ہو جسم نہیں بلکہ عشق علی ع کے خمیر سے بنا ہوا ایسا جسم ہے جو ایک عہد کی امانت ہے۔
اسے خاک کے حوالے کرتے ہوئے دنیا کو بتا دو کہ چھتیس سال کی حکمرانی کے بعد اس نے اپنے لیے کیا حاصل کیا؟
نہ خزانے، نہ سونے کے انبار، نہ جواہرات سے بھرے صندوق، نہ محل و کاخ اور ذاتی جائیدادیں…
اس کا واحد سرمایہ یہی دو گز زمین ہے جہاں تم اسے لے آئے یہی اسکی ابدی آرام گاہ ہے۔
وہ شخص جس نے دہائیوں سرزمین ولایت کی حفاظت کی، جس نے اپنی قوم کے دکھوں کو اپنا دکھ سمجھا، جس نے اپنی زندگی کو اقتدار کی لذت نہیں بلکہ خدمت کی ذمہ داری جانا، آج اسی وطن کی مٹی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا لے کر رخصت ہو گیا۔
جس نے پوری زندگی اپنی سر زمین کی حفاظت کی، آخرکار زمین نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا جاو حرم کے بلند و بالا گلدستوں پر نقارے بجا کر لوگوں تک یہ بات پہنچاو آج ہم نے ایک آسمان کو سپرد خاک کر دیا۔
حرم کی فضاؤں میں اعلان کرو کہ خادمینِ حرم کا ایک عظیم خادم آج اپنی ابدی آرامگاہ کے حوالے کر دیا گیا لیکن خادمین کی فہرست سے اس کا نام کم نہ کرو، بلکہ اسے عزت کے ساتھ سنہری حروف میں لکھ دو؛ کیونکہ کچھ لوگ صرف حاضری کی فہرست میں نہیں ہوتے، وہ تاریخ کے دل پر اپنا نام لکھ جاتے ہیں۔
اس کی خادمی کا وہ لباس، جسے وہ اپنے لیے دنیا کی ہر عزت سے زیادہ عزیز سمجھتا تھا، احترام سے محفوظ رکھو یہ لباس وقار ہے اہلبیت اظہار علیھم السلام کی خدمت کا لباس جس طرز کا بھی ہو لباس وقار ہوتا ہے یہ لباس گواہی دے گا کہ ایک حکمران بھی حرم کا خادم بن کر زندگی گزار سکتا ہے، اور اقتدار کی بلندی پر بیٹھ کر بھی انسان عاجزی کی انتہا تک پہنچ سکتا ہے۔
شاید ملکوت سے یہ آواز بھی آئے
اس سے معذرت کرو…
اسکے سامنے ہاتھوں کو جوڑ کر کھڑے ہو جاؤ آنسوں کے دیپ آنکھوں میں جلا لو اپنی کوتاہیوں کی فہرست نظروں کے سامنے رکھو اور پردہ ذہن پر یہ نقش بناؤ کہ ہمیشہ کی طرح اس سفر میں حرم کا دروازہ اس طرح نہ کھل سکا کہ تم دیکھ سکو کہ قدم بڑھاتے ہوئے پوری متانت و مکمل وقار کے ساتھ وہ اپنے امام کی جانب بقصد زیارت رواں ہے۔ آج پہلی بار خود چل کر یہ مرد مجاہدضریح کے قریب نہ جا سکا، وہ اپنے آنسوؤں سے ضریح کو غسل نہ دے سکا کہ اسکی آنکھیں سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی بند تھیں۔
وہ شخص جو ہر ملاقات میں عشقِ اہلِ بیتؑ کی خوشبو لے کر آتا تھا، آج اہلِ بیتؑ کی بارگاہ میں حاضر ہوا لیکن خود نہیں، اسے لایا گیا ۔۔۔ سوچو وہ جو کروڑوں دلوں پر راج کرتا تھا اور ان گنت لوگوں کا سہارا تھا اپنی آخری منزل گاہ جانے کے لئے اپنے چاہنے والوں کے سہارے کا محتاج تھا تو اب تم اپنے بارے میں سوچو کہ زندگی کتنے لوگوں کا سہارا بنے ہو اور جب تمہیں بھی ابدی منزل کی کی طرف جانا ہوگا تو تمہارا حال کیا ہوگا ۔
اس سے کہو
اے مسافرِ آخرت!
ہم شرمندہ ہیں کہ ہم ابھی دنیا کی فانی مصروفیات میں زندہ ہیں اور تجھے ہم نے رخصت کر دیا۔
خود سے نجوی کرو کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ایک سایہ اٹھ گیا، ایک مضبوط دیوار گر گئی، ایک چراغ بجھ گیا
وہی چراغ بجھا جسکی لو قیامت تھی شاید یہ کہنا بھی صحیح نہ ہو بلکہ یو کہو کہ وہ ایک ایسا چراغ تھا جو نئی روشنی میں تبدیل ہو گیا یہ روشنی خون کی روشنی ہے۔
اے خاک ! تو خوش نصیب ہے کہ آج تیرے دامن میں ایک ایسا انسان آرام کر نے پہنچ گیا جس نے اپنی زندگی کو خدمت، وفاداری اقدار انسانی کی حفاظت اور ایمان کے لیے وقف کر دیا سچ ہے بظاہر جسم مٹی میں سو گیا، مگر کردار زندہ رہےگا ہمیشہ زندہ رہے گا۔آج وہ دلربا آواز اپنے منفرد لب و لہجہ کے ساتھ خاموش ہو گئی جو مظلومین عالم کا سہارا تھا لیکن اس کی گھن گرج سماعتوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔
کچھ آوازیں خاموش ہو جاتی ہیں مگر پیغام باقی رہتا ہے۔
آج ایک شخص ضروررخصت ہوا، مگر ایک فکر، ایک راستہ اور ایک عہد تاریخ میں زندہ کر گیا۔
تدفین مکمل ہو گئی ایک انقلاب کا عہد مکمل ہو گیا بس ہم ہیں جو ادھورے رہ گئے۔۔۔









آپ کا تبصرہ